اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نیویارک ٹائمز نے 45 سے زائد انٹرویوز کی بنیاد پر تیار کی گئی اپنی تحقیقی رپورٹ میں ٹیکساس میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف سیاسی و سماجی دباؤ کا جائزہ لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹیکساس میں مسلم آبادی میں اضافے کے ساتھ بعض ریپبلکن رہنماؤں نے اسلامی اداروں اور مسلمانوں کی مذہبی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ ریاست میں مسلمانوں کے خلاف سیاسی بیانات، زبانی حملوں اور مختلف نوعیت کے اقدامات میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
مسلم برادری میں بڑھتی تشویش
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی کوسٹ گارڈ کے ریزرو اہلکار غلام کہر جون کے آغاز میں کئی ماہ کی ذمہ داری پر روانگی سے قبل ڈلاس کے قریب ارونگ شہر کے ولی رنچ اسلامی مرکز میں نمازِ فجر ادا کرنے گئے۔ تاہم اس مرتبہ انہیں اپنی سابقہ ذمہ داریوں کے مقابلے میں اپنے بیوی بچوں کی سلامتی زیادہ تشویش کا باعث تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ٹیکساس کے اعلیٰ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف سخت بیانات میں اضافہ ہوا ہے اور ریاست کی مختلف مساجد میں مسلمان عبادت کے دوران یا عوامی مقامات پر اپنے خلاف توہین آمیز اور دشمنانہ رویے کی شکایات کررہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں ہیوسٹن کے ایک بڑے اسلامی مرکز سے وابستہ ایک شخص کو دہشت گردی کی دھمکی دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح کونرو کے ایک اسٹور میں ایک خاتون نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ ٹیکساس یا امریکا میں خوش آمدید نہیں ہیں۔
میک کنی میں ایک مسجد کی توسیع سے متعلق ایک متنازع اجلاس کے دوران بھی ایک خاتون نے سابق میئر سے بدسلوکی کی اور ان کے لباس میں اسلام مخالف پیغام رکھ دیا۔
ٹیکساس میں مسلم آبادی میں نمایاں اضافہ
نیویارک ٹائمز کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ٹیکساس میں مسلم آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ڈلاس فورٹ ورتھ کا علاقہ مسلم خاندانوں کے لیے امریکا کی اہم منزلوں میں شامل ہوگیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ڈلاس فورٹ ورتھ کے علاقے میں مسلم اکثریتی ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی تعداد 2014 میں تقریباً 79 ہزار تھی، جو 2024 میں بڑھ کر ایک لاکھ 59 ہزار سے تجاوز کرگئی۔
رپورٹ کے مطابق علاقے کی چار بڑی کاؤنٹیوں میں مساجد کی تعداد بھی دو دہائیاں قبل 28 سے بڑھ کر 2020 میں 76 ہوگئی۔
تاہم ٹیکساس کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب اب بھی تقریباً ایک سے دو فیصد ہے اور نیویارک ٹائمز نے ریاست میں مسلمانوں کی تعداد 3 لاکھ سے 5 لاکھ کے درمیان بتائی ہے۔
آپ کا تبصرہ